مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَؤُمُّ النِّسَاءَ] · حديث 2386
2386 - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمِلْتُ اللَّيْلَةَ عَمَلًا! قَالَ: " مَا هُوَ؟ " قَالَ: نِسْوَةٌ مَعِي فِي الدَّارِ قُلْنَ إِنَّكَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ فَصَلِّ بِنَا فَصَلَّيْتُ ثَمَانِيًا وَالْوَتْرَ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَرَأَيْنَا أَنَّ سُكُوتَهُ رِضًا». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گزشتہ رات میں بہت مصروف رہا، نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا انہوں نے بتایا گھر کی خواتین میرے ساتھ تھیں انہوں نے یہ کہا کہ تم قراءت کرو کیونکہ ہم قراءت نہیں کر سکتی، اور تم ہمیں نماز پڑھاؤ اور میں نے انہیں آٹھ رکعت پڑھائیں اور وتر پڑھائے راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے راوی بیان کرتے ہیں: ہم یہ سمجھتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی آپ کی رضامندی تھی۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔
جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Hadith 2386
