مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ لَا يَتْرُكُ الْمَوْتَ أَحَدًا لِأَحَدٍ] · حديث 3898
3898 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ بِمَكَّةَ مُقْعَدَانِ لَهُمَا ابْنٌ شَابٌّ فَكَانَ إِذَا أَصْبَحَ نَقَلَهُمَا فَأَتَى بِهِمَا الْمَسْجِدَ فَكَانَ يَكْتَسِبُ عَلَيْهِمَا يَوْمَهُ فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ احْتَمَلَهُمَا فَأَقْبَلَ بِهِمَا، فَافْتَقَدَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالَ: مَاتَ ابْنُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَوْ تُرِكَ أَحَدٌ تُرِكَ ابْنُ الْمُقْعَدَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنُ نَجِيحٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ صَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مکہ میں دوا پاہچ میاں بیوی تھے ان کا ایک نو جوان بیٹا تھا جب صبح ہوتی تھی تو وہ ان دونوں کو منتقل کرتا تھا اور انہیں مسجد میں لے آ تا تھا وہ دن بھر ان دونوں کے لئے کما تا تھا جب شام ہوتی تھی تو ان دونوں کواٹھا کر ساتھ لے جا تا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پایاتواس کے بارے میں در یافت کیا‘ تو آپ کو بتایا گیا کہ ان دونوں کا بیٹافوت ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اگر کسی کو چھوڑا جا تا‘ توان دوا پاہچ میاں بیوی کے بیٹے کو چھوڑ دیا جاتا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ‘ اور وہ متروک ہے۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں‘ اس بارے میں ایک حدیث سورت ’’ص‘‘ کی تفسیر سے متعلق باب میں آگے آئےگی اگر اللہ نے چاہا۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 3898
