مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ رَضِيَ بِالْقَلِيلِ أَوْ سَخِطَهُ] · حديث 4565
4565 - عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، فَلَمْ يَأْخُذْهَا أَوْ وَحَّشَ لَهَا، قَالَ: وَجَاءَهُ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! قَالَ: فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ: " اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مانگنے والا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، آپ نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا، اس نے وہ نہیں لی، اور اس پر وحشت کا اظہار کیا، پھر ایک اورشخص آپ کے پاس آیا، آپ نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا، تو اس نے کہا: سبحان اللہ! اللہ کے رسول کی طرف سے ایک کھجور نصیب ہوئی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے فرمایا: تم اُمّ سلمہ کے پاس جاؤ! اور اُس کے پاس جو چالیس درہم موجود ہیں، وہ اِسے دلوادو۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، امام بزارنے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جونقصان دہ نہیں ہے، اس کے بقیہ رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
سُبْحَانَ اللَّهِ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← وَجَاءَهُ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، ← «أَتَى النَّبِيَّ سَائِلٌ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، فَلَمْ يَأْخُذْهَا أَوْ وَحَّشَ لَهَا، ← أَنَسٍ،
Hadith 4565
