مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ] · حديث 3498
3498 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " مَنْ آذَى وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ الْفَرَائِضِ، وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، إِنَّ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسِ بْنِ عُرْوَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو زَرْعَةَ وَالْعِجْلِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ وَضَعَّفَهُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ: " «فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ عَيْنَهُ الَّتِي يُبْصِرُ بِهَا وَأُذُنَهُ الَّتِي يَسْمَعُ بِهَا وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا» " وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَهُ هَارُونَ بْنَ كَامِلٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الزُّهْدِ فِي بَابِ مَنْ آذَى وَلِيًّا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا: جوشخص میرے ولی کو اذیت پہنچاتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال کر لیتا ہے اور میرا بندہ فرائض جیسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا اور بندہ نوافل کے ذریے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اگر وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں اسے قبول کرتا ہوں اور مجھے کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا تر ددنہیں ہوتا جتناتر دو بندے کی وفات سے ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس چیزکو نا پسند کرتا ہو جو اسے بری لگتی ہے۔یہ روایت امام احمد نےنقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبد الواحد بن قیس بن عروہ ہے جسے ابوزرعہ، عجلی اور دو روایات میں سے ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال"صحیح" کے رجال ہیں۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ الفاظ زادنقل کیے ہیں:جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان بن جاتا ہوں جن کے ذریعے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے اور اسکے پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریے وہ چلتا ہے۔ باقی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال"صحیح" کے رجال ہیں صرف ان (یعنی امام طبرانی) کے استاد هارون بن کلال کا معاملہ مختلف ہے۔یہ روایت امام بزارنے اس کی مانند نقل کی ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں): اس روایت کے بقیہ طرق زہدسے متعلق کتاب میں باب : جوشخص ولی کو اذیت پہنچائے ، میں آئیں گے۔
عَائِشَةَ
Hadith 3498
