مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ الصَّدَقَةِ بِأَفْضَلِ مَا يَجِدُ] · حديث 4631
4631 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نَزَلَتْ: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا} [الحديد: 11]، قَالَ عَنِ الدَّحْدَاحِ: اسْتَقْرَضَنَا رَبُّنَا مِنْ أَمْوَالِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: فَإِنَّ لِي حَائِطَيْنِ أَحَدُهُمَا بِالْعَالِيَةِ وَالْآخَرُ بِالسَّافِلَةِ ; فَقَدْ أَقْرَضْتُ خَيْرَهُمَا رَبِّي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هُوَ لِلْيَتِيمِ الَّذِي عِنْدَكُمْ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " رُبَّ عِذْقٍ لِابْنِ الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ مُدَلَّلٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’کون شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا‘‘۔ تو حضرت ابن دحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہمارے پروردگار نے ہمارے اموال میں سے قرض طلب کیا ہے یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے عرض کی: پھر میرے دو باغ ہیں ان میں سے ایک بالائی حصہ میں ہے، اور دوسرا زیریں حصے میں ہے، اور ان میں سے جو زیادہ بہتر ہے وہ میں اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دے دیتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: یہ تمہارے آس پاس موجود یتیم بچوں کے لئے ہوگا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: ’’ابن دحداح کے جنت میں کتنے ہی گچھے لٹک رہے ہیں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
الدَّحْدَاحِ: اسْتَقْرَضَنَا رَبُّنَا مِنْ أَمْوَالِنَا ← النَّبِيِّ لَمَّا نَزَلَتْ: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا} [الحديد: ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،
Hadith 4631
