مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ الْمُزَارَعَةِ] · حديث 6594
6594 - عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَفَاءَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَعَلَهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَهُمْ. فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ؛ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ، وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي. فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خیبر مال فئے کے طور پر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہاں رہنے دیا، آپ نے وہاں کی زمین (کی پیداوار) کو ان لوگوں کے اور اپنے درمیان دوحصوں میں تقسیم کر دیا، آپ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے پیدوار کا اندازہ لگایا، پھر یہ ارشاد فر مایا:اے یہودیوں کے گروہ! تم میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تم نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو قتل کیا، تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی، لیکن تمہارے ساتھ میرا بغض مجھے اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ میں تمہارے ساتھ زیادتی کروں، میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ کھجور کے بیس ہزار وسق ہوں گے، اگر تم چاہو، تو اس حساب سے تم لے لو اور اگر نہیں مانتے، تو پھر میں لے لیتا ہوں، انہوں نے کہا: اسی (حق اور انصاف )کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
جَابِرٍ أَنَّهُ
Hadith 6594
