مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ وَإِنْ كَثُرَ] · حديث 723
723 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ قَوْمًا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ، كُلُّهُنَّ فِي الْقُرْآنِ " {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ} [البقرة: 217] ". وَ " {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ} [البقرة: 219] ". وَ " {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى} [البقرة: 220] ". " {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ} [البقرة: 222] ". وَ " {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] ". وَ " {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ} [البقرة: 215] ". مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ. قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ لَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ، كَانَ النَّبِيُّ إِذَا آذَاهُ قَوْمُهُ خَرَجَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا حَتَّى يَمُوتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول کے اصحاب سے زیادہ بہتر قوم نہیں دیکھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال فرمانے تک ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے 13 چیزوں کے بارے میں سوال کئے تھے ، ان سب کا ذکر قرآن میں ہے:"لوگ تم سے حرمت والے مہینے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ""لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ""لوگ تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں""لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ""لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریا فت کرتے ہیں ""لوگ تم سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں "(حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :)وہ حضرات صرف اس چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے ، جو انہیں فائدہ دے ۔(حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :) خانہ کعبہ کے گرد طواف ، سب سے پہلے فرشتوں نے کیا تھا ، اور حجر اسود سے لے رکن ایمانی کے درمیان میں کچھ انبیاء کرام کی قبریں ہیں ، جب کسی نبی کو اس کی قوم کے افراد ، اذیت پہنچاتے تھے ، تو وہ ان لوگوں کے درمیان سے نکل جاتے تھے (اور خانہ کعبہ کے پاس آ کر ) مرتے دم تک ، یہاں اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عطا ء بن سائب ہے یہ ثقہ ہے، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 723
