مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ] · حديث 1912
1912 - «عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَلَبَ بِلَالًا لِيُؤَذِّنَ [لَهُمْ] فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَأَذَّنَ، فَجَاءَ بِلَالٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّمَا يُقِيمُ مَنْ أَذَّنَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ السَّمَّاكُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلوایا تاکہ وہ لوگوں کے لئے اذان دین وہ نہیں ملے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اذان دی اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے انہوں نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اقامت وہی شخص کہے ، جس نے اذان دی ہو۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد سماک ہے، اور وہ " ضعیف " ہے۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 1912
