مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ] · حديث 4603
4603 - عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " تَمَامُ الْعَمَلِ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْأَلُكَ عَنْ فَضْلِ الصَّدَقَةِ؟ قَالَ: " الصَّدَقَةُ شَيْءٌ عَجَبٌ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ أَفْضَلَ عَمَلٍ فِي نَفْسِي أَوْ خَيْرَهُ؟ قَالَ: " مَا هُوَ؟ ". قُلْتُ: الصَّوْمُ؟ قَالَ: " خَيْرٌ وَلَيْسَ هُنَاكَ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيُّ الصَّدَقَةِ؟ - وَذَكَرَ كَلِمَةً - قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَقْدِرْ أَفْعَلُ؟ قَالَ: " بِفَضْلِ طَعَامِكَ ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " بِشِقِّ تَمْرَةٍ ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " دَعِ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ ; فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقْ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: " تُرِيدُ أَنْ لَا تَدَعَ فِيكَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا». قُلْتُ: عِنْدَ النَّسَائِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْعَوَّامُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول الله! نماز کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ عمل کی تکمیل ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ سے صدقہ کی فضیلت کے بارے میں دریافت کرتا ہوں آپ نے ارشادفرمایا: صدقہ پسندیدہ چیز ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے اس عمل کو ترک کر دیا جو میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور سب سے زیادہ فضیلت والا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کون سا ہے میں نے عرض کی: روزہ آپ نے فرمایا: وہ بہتر ہے، لیکن وہ مرا دنہیں ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول الله! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اس کے بعد راوی نے ایک کلمہ ذکر کیا تھا۔ میں نے عرض کی: اگر میں اس کی قدرت نہ رکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اضافی (چیز) صدقہ کردو میں نے عرض کی: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: نصف کھجور کر دو میں نے عرض کی: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکیزہ بات کہہ دو میں نے عرض کی: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو شر سے بچا کے رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہوگا جسے تم اپنی ذات پر کروگے میں نے عرض کی: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے اندر کوئی بھی بھلائی نہ رہنے دو۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام نسائی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔ یہ روایت امام بزارنے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عوام بن جویریہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ
Hadith 4603
