مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ الْمُؤَذِّنِ الْمُحْتَسِبِ] · حديث 1910
1910 - عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «الْمُؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كَالشَّهِيدِ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ أَذَانِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَإِنْ مَاتَ لَمْ يُدَوِّدْ فِي قَبْرِهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْقُسْطَانِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ثواب کی امید رکھنے والا مؤذن اس شہید کی مانند ہے ، جو اپنے خون میں لت پت ہوجاتا ہے ( وہ مؤذن اس حالت میں اس وقت تک شمار ہوتا ہے ) جب تک وہ اذان دے کر فارغ نہیں ہو جاتا اور اس کے حق میں ہر خشک اور تر چیز گواہی دے گی، اور اگر وہ مر جائے تو اس کا جسم اس کی قبر میں خراب نہیں ہوگا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل قسطانی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 1910
