مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يُتَّخَذُ مِنَ الدَّوَابِّ] · حديث 6249
6249 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ، وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ» ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «بُعِثَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ، وَبُعِثْتُ أَنَا، وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اونٹوں کے مالکان اور بکریوں کے مالکان نے باہمی طور پر فخر کا اظہار کیا ‘تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اونٹوں کے مالکان میں فخر اور تکبر ہوتا ہے اور بکریوں کے مالکان میں سکنیت اور وقار ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کومبعوث کیا گیا تھا وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے معبوث کیا گیا تو اس وقت میں بھی اپنے اہل خانہ کی بکریاں’’جیاد‘‘ کے مقام پر چرایا کرتا تھا۔یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کر نےوالا ہے۔
رَسُولُ اللَّهِ بُعِثَ مُوسَى وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ ← رَسُولُ اللَّهِ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ، وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ» ← «افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [A door that is taken from the cattle] · Hadith 6249
