مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْرَاءِ] · حديث 229
229 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظَعْتُ بِأَمْرِي، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ، فَقَعَدْتُ مُعْتَزِلًا حَزِينًا ". فَمَرَّ بِهِ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ: هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " نَعَمْ " قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ ". قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ". قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " فَلَمْ يُرِهِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِنْ دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ. قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ أَتُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ. قَالَ: فَانْتَقَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا. قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ ". قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ. قَالُوا: وَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ؟ - وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ، فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ " قَالَ: " فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عُقَيْلٍ - أَوْ عِقَالٍ - فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ. قَالَ: وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ " قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " جب مجھے رات کے وقت سیر کروائی گئی اور اگلے دن میں مکہ میں موجود تھا، تو میں اپنے معاملے کے بارے میں پریشانی کا شکار ہوا، اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ، میں الگ تھلگ ہو کر پریشان بیٹھ گیا، اللہ تعالیٰ کا دشمن ابو جہل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، تو وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا، اس نے مذاق اڑانے کے انداز میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا کچھ ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ، اس نے دریافت کیا: کہاں تک ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: بیت المقدس تک ، اس نے دریافت فرمایا: اور پھر ( اب ) آپ ہمارے درمیان بھی موجود ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ آپ کی بات جھٹلا رہا ہے ، اسے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بلا کر لایا ، تو کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کا انکار نہ کر دیں ، اس نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہ اگر میں آپ کی قوم کو بلا لاؤں ، تو جو چیز آپ نے مجھے بیان کی ہے، وہ آپ ان کے سامنے بھی بیان کر دیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں ! اس نے کہا : اے بنو کعب بن لؤی ! ادھر آؤ! تو مختلف محافل میں بیٹھے ہوئے لوگوں اس کی طرف آئے ، وہ لوگ اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے ، تو ابو جہل نے کہا: آپ نے جو بات مجھے بیان کی ہے ، وہ اپنی قوم لو بھی بیان کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات مجھے سیر کروائی گئی ، ان لوگوں نے دریافت کیا : کہاں تک ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس تک ، انہوں نے کہا : پھر آپ صبح کے وقت ( یعنی اب ) ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان میں سے کسی نے تالی بجائی ، کسی نے حیرانگی کا اظہار کیا اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، ان کا یہ گمان تھا کہ یہ غلط بیانی ہے، انہوں نے کہا: کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ اس مسجد کا نقشہ ہمارے سامنے بیان کریں ؟ ان لوگوں میں سے کچھ افراد نے اس شہر تک کا سفر کیا ہوا تھا اور وہ مسجد بھی دیکھی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : میں نے اس کا نقشہ بیان کرنا شروع کیا، تو اس کو بیان کرنے کے دوران مجھے التباس ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ مسجد لائی گئی اور میں دیکھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس مسجد کو دار عقیل کے پچھلی طرف رکھ دیا گیا۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : دار عقال ۔ تو میں نے اس مسجد کو دیکھ کر اس کا نقشہ بیان کرنا شروع کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں اس ( مسجد ) کے نقشے کے الفاظ بھی تھے، لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے کہا : جہاں تک نقشے کی بات ہے، تو اللہ کی قسم ! وہ انہوں نے صحیح بیان کیا ہے۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section in secret) · Hadith 229
