مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ بَابٌ كَيْفَ يَحْلِفُ] · حديث 6926
6926 - عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ اسْتَقْرَضَ مِنْ عُثْمَانَ سَبْعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَلَمَّا طَلَبَهَا مِنْهُ قَالَ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ آلَافٍ. فَخَاصَمَهُ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ عُثْمَانُ: أَقْرَضْتُهُ سَبْعَةَ آلَافٍ وَقَالَ الْمِقْدَادُ: يَحْلِفُ أَنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ، فَقَالَ عُثْمَانُ: قَدْ أَنْصَفْتَ، [فَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ] فَقَالَ: خُذْ مَا أَعْطَاكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ. قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَحْلِفَ أَنَّ هَذَا لَيْلٌ، وَهَذَا النَّهَارُ؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
امام شبعی بیان کرتے ہیں: حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سےسات ہزار درہم قرض لیا، جب انہوں نے ان سے مطالبہ کیا ، تو انہوں نے یہ کہا یہ تو چار ہزار رقم تھی۔ انہوں نے اپنامقسمہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے اسے سات ہزار درہم قرض کے طور پر دیے تھے، اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حلف اٹھائیں کہ وہ سات ہزار تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے انصاف سے کام لیا ہے ،لیکن پھر انہوں نے حلف اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ جوتمہیں دےرہا ہے تم وہ وصول کر لو ،انہوں نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبودہیں ہے ، یہ سات ہزارہی ہیں تو انہوں نے فرمایا: اس بات کے بارے میں حلف اٹھانے میں تمہارے لئے کیا چیز رکاوٹ بنے گی کہ یہ رات ہے اور یہ دن ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ. ← خُذْ مَا أَعْطَاكَ. ← عُثْمَانُ: قَدْ أَنْصَفْتَ، ← الْمِقْدَادُ: يَحْلِفُ أَنَّهَا سَبْعَةُ آلَافٍ، ← عُثْمَانُ: أَقْرَضْتُهُ سَبْعَةَ آلَافٍ
Hadith 6926
