مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْكَلَامِ فِي الْقَدَرِ] · حديث 11849
11849 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا: «كُنَّا فِي مَجْلِسِ أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْقَدَرَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُغْضَبًا، فَعَبَسَ وَانْتَهَرَ وَقَطَّبَ، ثُمَّ قَالَ: " مَهْ، اتَّقُوا اللَّهَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَادِيَانِ عَمِيقَانِ فَغْرَانِ [مُظْلِمَانِ]، لَا تُهَيِّجُوا عَلَيْكُمْ وَهَجَ النَّارِ "، ثُمَّ أَمَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَقُومُوا، ثُمَّ قَامَ وَبَسَطَ يَمِينَهُ وَبَسَطَ إِصْبَعَهُ الشِّمَالَ، ثُمَّ قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ "، ثُمَّ بَسَطَ شِمَالَهُ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ النَّارِ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، أَعْذَرْتُ؟ أَنْذَرْتُ؟ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ، قَالَ أَحْمَدُ: أَحَادِيثُهُ مَوْضُوعَةٌ.
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ساتھ ایک محفل میں موجود تھے اور تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے‘ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کے عالم میں تشریف لائے‘ آپ نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے تھے اور چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا:’’رُک جاؤ! اے محمد کی امت !تم اللہ سے ڈرو! دو گہری‘ کھلے منہ والی تار یک وادیاں ہیں‘ تم اپنے خلاف آگ کی شدت کو نہ بھڑکاؤ‘‘۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ اٹھ جائیں، پھر آپ کھڑے ہوئے‘ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا اور بائیں ہاتھ کو بند رکھا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے‘ یہ بڑے مہربان‘ نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ایک تحریر ہے جو اہل جنت کے ناموں کے بارے میں ان کے آباء واجداد‘ ان کی ماؤں‘ ان کے خاندانوں کے ناموں کے بارے میں ہے‘ تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے‘ تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہ‘‘ ۔ پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا‘ پھر آپ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ رحمان اور رحیم کی طرف سے آنے والا مکتوب ہے‘ جس میں اہل جہنم کے نام ہیں ان کے آباء و اجداد‘ ان کی ماؤں‘ ان کے خاندانوں کے نام ہیں‘ تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے‘ تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے‘ تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے‘ کیا میں نے عذر بیان کر دیا ہے؟ میں نے ڈرا دیا ہے؟ اے اللہ ! میں نے تبلیغ کر دی ہے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک عبداللہ بن یزید بن آدم ہے امام احمد کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حد یث موضوع ہوتی ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبِي الدَّرْدَاءِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter forbidding speaking in destiny] · Hadith 11849
