مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ بَابُ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا] · حديث 12579
12579 - وَعَنْ أَبِي زَرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: جَلَسَ ثَلَاثُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ، أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ قَالَ: فَانْصَرَفَ الْقَوْمُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثُوهُ بِالَّذِي سَمِعُوهُ مِنْ مَرْوَانَ فِي الْآيَاتِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا، قَدْ حَفِظْتُ مِنْ [رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مِثْلِ ذَلِكَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ، سَمِعْتُ] رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَ [خُرُوجُ] الدَّابَّةُ ضُحًى، فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا، فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا» ". ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ -: وَأَظُنُّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ; وَذَلِكَ أَنَّهَا كُلَّمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَأُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ، حَتَّى إِذَا بَدَا لِلَّهِ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِهَا فَعَلَتْ كَمَا كَانَتْ تَفْعَلُ، أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ، فَلَا يَرُدُّ عَلَيْهَا شَيْئًا، حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْهَبَ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ إِنْ أُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ لَمْ تُدْرِكِ الْمَشْرِقَ قَالَتْ: رَبِّ، مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقَ، مَنْ لِي بِالنَّاسِ؟ حَتَّى إِذَا صَارَ الْأُفُقُ كَأَنَّهُ طَوْقٌ، اسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَيُقَالُ لَهَا: مِنْ مَكَانِكِ فَاطْلُعِي. فَطَلَعَتْ عَلَى النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِهَا. ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: 158] قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابو زرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں مسلمانوں میں سے تین افراد مروان کے پاس مدینہ منورہ میں بیٹھے اور اس کی باتیں سننے لگے اس نے (قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی) نشانیوں کے بارے میں بات چیت کی کہ ان میں سب سے پہلے دجال نکلے گا پھر وہ لوگ اٹھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے مروان کی زبانی جو باتیں سنی تھیں وہ ان کے سامنے بیان کی جو قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیوں کے بارے میں تھیں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:جو بات مروان نے بیان کی ہے ۔ وہ ٹھیک نہیں ہے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے یہ بات یاد ہے جو اس بارے میں ہے اور میں اسے نہیں بھولا‘ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:’’نشانیوں میں سب سے پہلے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے کا ظہور ہو گا، پھر دابۃ الارض چاشت کے وقت نکلے گا ان میں سے جو بھی پہلے نکلے گا دوسرا اس کے بالکل بعد آ جائے گا‘‘ پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تحریر میں ملاحظہ کرنے کے بعد یہ بات بیان کی ہے کہ میرا خیال ہے کہ ان میں سے پہلے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے والی نشانی ظاہر ہو گی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جب بھی غروب ہوتا ہے وہ عرش کے نیچے آ جاتا ہے وہ سجدہ کرتا ہے اور پھر واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے اسے واپس جانے کی اجازت دی جاتی ہے‘ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ یہ طے کرے گا کہ اب اسے مغرب کی طرف سے نکلنا چاہیے تو سورج ویسا ہی کرے گا جیسے پہلے کرتا تھا وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدے میں چلا جائے گا اور واپس جانے کی اجازت مانگے گا تو اسے جواب نہیں ملے گا، پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگے گا اسے جواب نہیں ملے گا یہاں تک کہ جتنا عرصہ اللہ کومنظور ہو گا رات کا اتنا حصہ گزر جائے گا تو سورج کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ اب اگر اسے واپس جانے کی اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا تو وہ عرض کرے گا:اے میرے پروردگار مشرق کتنی دور ہے اب میں لوگوں تک کیسے پہنچوں گا؟ یہاں تک کہ جب وہ افق میں طوق کی مانند ہو جائے گا تو پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگے گا تو اس سے کہا جائے گا تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور طلوع ہو جاؤ تو وہ مغرب کی طرف سے لوگوں کے سامنے طلوع ہو گا پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی :جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے ایک آ جائے گی اس دن کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا‘ ایسا شخص جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہیں کمائی تھی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں’’صحیح‘‘ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › The door of the rising of the sun at its setting] · Hadith 12579
