مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ] · حديث 12532
12532 - «وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِخَبَرٍ جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ ". فَذَكَرَ حَدِيثَ الْجَسَّاسَةِ وَزَادَ فِيهِ " هُوَ الْمَسِيحُ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ طَيْبَةَ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَطَيْبَةُ الْمَدِينَةُ، مَا بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ مُصْلِتٌ سَيْفَهُ يَمْنَعُهُ، وَبِمَكَّةَ مِثْلُ ذَلِكَ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو! میں نے تمہیں اس لئے جمع نہیں کیا کہ آسمان سے کوئی خبر آئی ہے ۔۔۔۔۔‘‘۔اس کے بعد راوی نے جساسہ والی روایت ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے:’’وہ دجال ہو گا جس کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا وہ چالیس دن میں (پوری زمین کا چکر لگائے گا) البتہ وہ طیبہ میں نہیں آ سکے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے ۔ اس کے ہر دروازے پر فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہو گا جوا سے (یعنی دجال کو) اندر داخل ہونے نہیں دے گا اور مکہ میں بھی اسی طرح ہو گا‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے دوا سناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِخَبَرٍ جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ← جَابِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter of what came in the antichrist] · Hadith 12532
