مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا] · حديث 12306
12306 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، هَلْ لِلْقَاتِلِ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَالْمُتَعَجِّبِ مِنْ شَأْنِهِ: مَاذَا تَقُولُ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَسْأَلَتَهُ. فَقَالَ: مَاذَا تَقُولُ؟ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «يَأْتِي الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا رَأْسُهُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ مُلَبِّبًا قَاتِلَهُ بِالْيَدِ الْأُخْرَى تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ الْعَرْشَ، فَيَقُولُ الْمَقْتُولُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ: هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَاتِلِ: تَعِسْتَ. وَيَذْهَبُ بِهِ إِلَى النَّارِ» ". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے:ایک شخص نے ان سے سوال کیا اور کہا اے ابو عباس! کیا قاتل کے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:تم نے کیا کہا؟ اس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر یہ کہا تم نے کیا کہا؟ یہ مکالمہ دو یا شاید تین مرتبہ ہوا پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’(قیامت کے دن) مقتول آئے گا اس نے ایک ہاتھ میں اپنا سر پکڑا ہوا ہو گا اور دوسرے ہاتھ میں اس نے قاتل پکڑا ہوا ہو گا‘ اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا یہاں تک کہ وہ اسے ساتھ لے کر عرش کے پاس آئے گا پھر مقتول تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کرے گا کہ اس نے مجھے قتل کیا تھا تو اللہ تعالیٰ قاتل سے فرمائے گا تم بر بادہو گئے! پھر اس قاتل کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں) میں یہ کہتا ہوں:یہ روایت امام ترمذی نے آخری حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
نَبِيَّکُمْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَاذَا تَقُولُ؟ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. ← ابْنُ عَبَّاسٍ كَالْمُتَعَجِّبِ مِنْ شَأْنِهِ: مَاذَا تَقُولُ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَسْأَلَتَهُ. ← يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، هَلْ لِلْقَاتِلِ مِنْ تَوْبَةٍ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter of the sanctity of Muslims ’blood and money and the sin of one who kills a Muslim] · Hadith 12306
