مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ] · حديث 12222
12222 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟ ". قَالَ: فَذَاكَ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ذَاكَ إِذَا مَرِجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ فَصَارُوا هَكَذَا " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالَ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اے عبداللہ بن عمرو! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گئے انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ! وہ کیا صورت حال ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس قت لوگوں کی امانتیں اور ان کے عہد ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی، انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ! مجھے کیا کرنا چاہیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم وہ عمل کرنا جسے تم نیکی سمجھو اور اسے ترک کر دینا جسے تم منکر (یا برائی) سمجھو اور تم بطور خاص اپنی ذات کے لئے عمل کرنا اور لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دینا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [A door in the days of patience, and in whom one holds fast to one’s religion in temptation] · Hadith 12222
