مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ يَرَى الْمُنْكَرَ مَعْرُوفًا] · حديث 12210
12210 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «كَيْفَ بِكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا طَغَى نِسَاؤُكُمْ وَفَسَقَ فِتْيَانُكُمْ؟ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا لَكَائِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَأَشَدُّ مِنْهُ، كَيْفَ بِكُمْ إِذَا تَرَكْتُمُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؟ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا لَكَائِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَأَشَدُّ مِنْهُ، كَيْفَ بِكُمْ إِذَا رَأَيْتُمُ الْمُنْكَرَ مَعْرُوفًا وَالْمَعْرُوفَ مُنْكَرًا»؟ ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَسَقَ شَبَابُكُمْ "، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ جَرِيرُ بْنُ الْمُسْلِمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَالرَّاوِي عَنْهُ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ اے لوگو! جب تمہاری عورتیں سرکش ہو جائیں گی اور تمہارے نوجوان فاسق ہو جائیں‘ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ! کیا ایسا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جی ہاں اور اس سے بھی زیادہ سخت چیز ہو گی‘ اس وقت تمہارا کیا بنے گا؟ جب تم نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دو گے؟ لوگوں نے عرض کی:یا رسول اللہ! کیا ایسا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس سے بھی زیادہ سخت چیز ہو گی‘ اس وقت تمہارا کیا بنے گا؟ جب تم منکر کو معروف سمجھو گے اور معروف کومنکر سمجھو گے‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلی نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:’’تمہارے نو جوان فاسق ہو جائیں گے‘‘۔ امام ابو یعلی کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی جریر بن مسلم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں‘ اس سے روایت نقل کرنے والا شخص امام طبرانی کا استاد ہمام بن یحییٰ ہے اور میں اس سے بھی واقف نہیں ہوں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [A section by whomever sees the objectionable] · Hadith 12210
