مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِي أَهْلِ الْمَعْرُوفِ وَأَهْلِ الْمُنْكَرِ] · حديث 12114
12114 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا وَلَدَهُ أَحْمَدَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي الْأَخِيرِ الْمُسَيَّبِ بْنُ وَاضِحٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُخْطِئُ كَثِيرًا، فَإِذَا قِيلَ لَهُ لَمْ يَرْجِعْ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’دنیا میں نیکیوں والے آخرت میں نیکیوں والے ہوں گے اور دنیا میں برائیوں والے آخرت میں برائیوں والے ہوں گے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحییٰ بن خالد بن حیان رقی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور نہ ہی اس کے بیٹے احمد سے واقف ہوں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں‘ دوسری روایت میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے‘ ابو حاتم کہتے ہیں:یہ بہت زیادہ غلطی کرتا ہے اور جب اس کو غلطی پر تنبیہ کی جائے تو یہ رجوع نہیں کرتا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on People of Good and People of Evil] · Hadith 12114
