مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الصُّلْحِ وَمَا كَانَ بَعْدَهُ] · حديث 12077
12077 - وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ جَالِسٌ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَجَلَسَ شَدَّادٌ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يُجْلِسُنِي بَيْنَكُمَا؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا جَمِيعًا فَفَرِّقُوا بَيْنَهُمَا، فَوَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَا إِلَّا عَلَى غَدْرَةٍ» "، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَكُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچھونے پر بیٹھے ہوئے تھے‘ حضرت شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا:کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان کیوں بیٹھا ہوں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جب تم لوگ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھو تو ان دونوں کو الگ کروا دینا کیونکہ اللہ کی قسم یہ دونوں کسی عہد شکنی پر ہی اکٹھے ہوں گے‘‘۔ (پھر حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:)تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں تم دونوں کو الگ کروا دوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن یعلی بن شداد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter of what came in reconciliation and what came after it] · Hadith 12077
