مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ] · حديث 12065
12065 - وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ قَالَ: فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا أَوْ رَقِيَ عَلَى أَكَمَةٍ أَوْ هَبَطَ وَادِيًا قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا، أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا، أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ قُلْتَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنَّا، وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا فِي عُثْمَانَ فَقَتَلُوهُ، فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا أَوْ فِعْلًا مِنِّي، ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ.
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں:ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے وہ جب بھی کسی جنگ میں حصہ لیتے تھے یا جب کسی ٹیلے پر چڑھتے تھے یاکسی نشیبی علاقے میں اتر رہے ہوتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے :سبحان اللہ! اللہ اوراس کے رسول نے سچ فرمایا ہے‘ راوی کہتے ہیں :میں نے بنو یشکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کہا:تم ہمارے ساتھ امیر المؤمنین کے پاس چلو! تاکہ ہم ان سے ان کے اس جملے کے بارے میں دریافت کر لیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے‘ راوی کہتے ہیں :ہم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے‘ ہم نے کہا:اے امیر المؤمنین ! ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ جنگ میں حصہ لیتے ہیں یا جب کسی نشیبی جگہ پر اتر رہے ہوتے ہیں یا جب کسی ٹیلے پر چڑھ رہے ہوتے ہیں، تو آپ یہ فرماتے ہیں:اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے تو کیا اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو کوئی خصوصی تلقین کی ہے؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے ہم سے منہ پھیر لیا ہم نے ان کی خدمت میں اہتمام سے گزارش کی‘ جب انہوں نے یہ چیز ملاحظہ فرمائی تو یہ ارشاد فرمایا:’’اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کوئی خصوصی تلقین نہیں کی‘ وہی امور ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو تلقین کیے تھے لیکن جب لوگ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوشہید کر دیا تو میرے علاوہ دوسرے لوگ حالت کے اعتبار سے اور طرز عمل کے اعتبار سے زیادہ برے تھے‘ پھر میں نے یہ بات دیکھی کہ حکومت کا میں ان سب سے زیادہ حق دار ہوں تو میں نے حکومت کو اختیار کرلیا‘ اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط کیا‘‘۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘ صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے‘ اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [A section of what was between them on the Day of Siffin, may God be pleased with them.] · Hadith 12065
