مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ] · حديث 12053
12053 - وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ، وَكَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَحْمِلُ صَخْرَتَيْنِ، فَقَالَ: " وَيْحَ ابْنَ سُمَيَّةَ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى مُنْقَطِعٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْعَلَّافُ الرَّازِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد تعمیر کروا رہے تھے‘ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو انینٹیں اٹھا کے لا رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ابن سمیہ کا ستیاناس ہو! ایک باغی گروہ اسے قتل کر دے گا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابو یعلی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے امام ابو یعلی کی سند منقطع ہے‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی احمد بن عمر علاف رازی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [A section of what was between them on the Day of Siffin, may God be pleased with them.] · Hadith 12053
