مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ] · حديث 12041
12041 - عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ عَلِيٌّ إِلَى صِفِّينَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى الْكُوفَةِ، وَكَانَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ اسْتَخْفُوا [عَلِيًّا]. فَلَمَّا خَرَجَ ظَهَرُوا، فَكَانَ نَاسٌ يَأْتُونَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَيَقُولُونَ: قَدْ وَاللَّهِ أَهْلَكَ اللَّهُ أَعْدَاءَهُ وَأَظْفَرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَيَقُولُ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعُدُّهُ ظَفَرًا وَلَا عَافِيَةً أَنْ تَظْهَرَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى. قَالُوا: فَمَهْ؟ قَالَ: يَكُونُ بَيْنَ الْقَوْمِ صُلْحٌ. فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ، ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: اعْتَزِلْ عَمَلَنَا. قَالَ: وَذَاكَ مَهْ؟ قَالَ: إِنَّا وَجَدْنَاكَ لَا تَعْقِلُ عَقْلَةً. قَالَ: أَمَّا أَنَا فَقَدَ بَقِيَ مِنْ عَقْلِي مَا أَعْلَمُ، أَمَّا الْآخَرُ شَرٌّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عامر شعبی بیان کرتے ہیں:جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفین کی طرف جانے کے لئے نکلے‘ تو انہوں نے کوفہ میں حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا‘ کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چھپے ہوئے تھے جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے تو وہ لوگ ظاہر ہوئے وہ لوگ حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر یہ کہنے لگے :اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کر دیا اور مومنین کو کامیاب کر دیا تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:اللہ کی قسم! میں اسے کامیابی شمار نہیں کرتا ہوں‘ اس میں عافیت نہیں ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کوئی ایک غالب آ جائے‘ لوگوں نے کہا:پھر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا:لوگوں کے درمیان صلح ہونی چاہیے‘ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس تشریف لائے تو لوگوں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:تم ہمارے منصب سے الگ ہو جاؤ! انہوں نے دریافت کیا:وہ کیوں؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:ہم نے تمہیں پایا ہے کہ تم میں عقل نہیں ہے تو انہوں نے فرمایا:جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے پاس جو عقل باقی ہے اور مجھے جس چیز کا علم ہے‘ اس کے مطابق دوسری صورت حال بری ہے ۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے‘ جسے امام نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [A section of what was between them on the Day of Siffin, may God be pleased with them.] · Hadith 12041
