مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَطْفَالِ] · حديث 11945
11945 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي اللَّاهِينَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوِهِ وَطَافَ فَإِذَا هُوَ بِغُلَامٍ قَدْ وَقَعَ وَهُوَ يَعْبَثُ بِالْأَرْضِ، فَنَادَى مُنَادِيهِ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ اللَّاهِينَ؟ "، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْأَطْفَالِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ هَذَا مِنَ اللَّاهِينَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے‘ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا اس نے عرض کی :یا رسول اللہ ! لہو کا شکار ہونے والوں (یعنی بچپن میں فوت ہوجانے والوں) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں:آپ خاموش رہے‘ آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جنگ سے فارغ ہو گئے تو آپ نے چکر لگاتے ہوئے دیکھا کہ ایک بچہ گرا ہوا تھا اور وہ زمین پر (خاک وخون میں) لتھڑا ہوا تھا‘ آپ نے منشکو پکار کر کہا:بچوں کے بارے میں پوچھنے والا شخص کہاں ہے؟ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا اور پھر ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں نے جو عمل کرنے تھے اور یہ بچہ بھی ان میں شامل ہے‘‘۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ← وعن ابن عباس
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › Chapter What Comes Among Children] · Hadith 11945
