حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ’’جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر چیونٹیوں کی طرح کی سفید رنگ کی‘ ان کی اولاد کو نکالا’’پھر ان کے بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر سیاہ رنگ کی ان کی اولاد کو نکالا جو کوئلے کی مانند تھے پھر اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والے لوگوں کے بارے میں یہ فرمایا :یہ جنت میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے اور جو بائیں تھیلی میں تھے ان کے بارے میں یہ فرمایا :یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے‘‘۔یہ روایت امام احمد‘ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَبِي الدَّرْدَاءِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11777
ابو نضرہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جنہیں ابو عبداللہ کہا جاتا تھا،ان کے شاگرد ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے تو وہ رو رہے تھے،لوگوں نے ان سے دریافت کیا:آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے:اپنی مونچھیں پست رکھو اور پھر انہیں ایسے ہی رکھنا یہاں تک تم مجھ سے آ ملو ! تو ان صاحب نے جواب دیا:جی ہاں !لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:’’بے شک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ میں کچھ لوگوں کو لیا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرے لوگوں کو لیا اور فرمایا :یہ اس (یعنی جنت) کے لئے ہیں اور یہ اُس (یعنی جہنم) کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے‘‘۔ (پھر اُن صحابی نے فرمایا:)مجھے نہیں معلوم میں ان میں سے کون سی مٹھی میں تھا ؟ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11778
حضرت عبدالرحمٰن بن قتادہ سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر ان کی پشت سے مخلوق (یعنی بنی نوع انسان) کو لیا اور فرمایا:یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ (دوسرے) لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہ‘‘ ۔ ایک صاحب نے عرض کی :یا رسول اللہ ! پھر ہم کس بنیاد پر عمل کریں ؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تقدیر (کے حکم) کے واقع ہونے کی صورت (کے مطابق تم عمل کرو) ۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11779
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے مٹھی میں (بنی نوع انسان) کو لیا اور فرمایا:یہ میری رحمت،جنت کے لئے ہیں،پھر ایک اور مٹھی میں (دوسرے لوگوں کو) لیا اور فرمایا :یہ جہنم کے لئے ہیں اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سنان باہلی ہے‘ابو حاتم کہتے ہیں :اسے بہت زیادہ وہم لاحق ہوتا ہے‘یہ قوی نہیں ہے‘تاہم اس کا محل صدق ہے‘اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا‘جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11780
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی مٹی کو مٹھی میں لیا‘اسے دو مٹھیوں میں لیا‘دائیں مٹھی میں کچھ کو لیا اور بائیں میں کچھ کو لیا‘دائیں مٹھی والے لوگوں کے بارے میں اس نے فرمایا:یہ جنت میں جائیں گے‘ اور میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور دوسرے ہاتھ والے لوگوں کے بارے میں فرمایا:یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا‘پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو واپس حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں رکھ دیا تو اب تک وہ اسی بنیاد پر نسل در نسل پیدا ہو رہے ہیں‘‘ ۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے‘اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے‘یحییٰ بن معین کہتے ہیں:یہ حکم درجہ کا صالح شخص ہے‘دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
اَبِیْ مُوْسیٰ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11781
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں :اللہ تعالیٰ نے دونوں مٹھیوں کے بارے میں یہ فرمایا :میں (ایک مٹھی والے لوگ) جنت میں جائیں گی اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور یہ (دوسری مٹھی والے لوگ) جہنم میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا‘‘۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘البتہ نمر بن ہلال کا معاملہ مختلف ہے اور ابو حاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11782
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے دو مٹھیوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے:یہ لوگ اس (یعنی جنت) کے لئے ہیں اور یہ لوگ اس (یعنی جہنم) کے لئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تو لوگ متفرق قسم کے ہو گئے اور تقدیر کے حکم کے حساب سے ان میں اختلاف نہیں ہوا (یعنی ہر ایک مخصوص قسم سے تعلق رکھتا ہے) ‘‘۔یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11783
حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘اس نے عرض کی:یا رسول اللہ! کیا ہم نئے سرے سے اعمال کرتے ہیں؟ یا یہ طے شدہ تقدیر کے مطابق ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور پھر انہیں اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنایا اور پھر انہیں اپنی دونوں ہاتھوں میں رکھا(راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اپنی ہتھیلی پر رکھا اور فرمایا :یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور نہ (دوسرے) لوگ جہنم میں جائیں گے‘جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے توان کے لئے اہل جنت کے عمل کو کر دیا جائے گا اور جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے تو ان کے لئے اہل جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا‘‘۔یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے‘اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے‘اس کی نقل کردہ حدیث کو شواہد کی کثرت کی وجہ سے حسن قرار دیا گیا ہے اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11784
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے:جب اُن کی موت کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے‘ان کے ساتھی نے ان سے کہا:آپ کیوں رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا:اللہ کی قسم! میں موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں اور نہ ہی دنیا کو اپنے پیچھے چھوڑنے کی وجہ سے روہا ہوں لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:’’اس کی دو مٹھیاں تھیں‘ایک مٹھی (کے لوگوں) جہنم میں جانا ہے اور ایک (یعنی دوسری مٹھی (کے لوگوں) نے جنت میں جانا ہے‘‘ ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:اب مجھے نہیں معلوم کہ میں ان دونوں میں سے کون سی مٹھی میں ہوؤں گا۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے اور حسن نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11785
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کم احادیث نقل کرتے ہیں :وہ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت کو اُن کی پشت سے نکالا‘یہاں تک کہ ان لوگوں نے زمین کو بھر دیا‘اور وہ لوگ اس طرح تھے‘‘ ۔یہاں جعفر نامی راوی نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا لیا۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11786
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے‘آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا اور ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے‘یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریر ہے‘جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے‘اس میں اہل جنت کے ان کے آباء واجداد ان کے قبیلوں اور خاندانوں کے نام ہیں‘ان میں سے کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا اور ارشاد فرمایا:”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے‘یہ رحمان اور رحیم کی طرف سے تحریر ہے جو اہل جہنم کے لئے ہے اس میں ان کے نام اور ان کے آباء واجداد ان کے قبیلوں اور ان کے خاندانوں کے نام ہیں‘ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے ابن مجاہد کی اس کے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں ابن مجاہد سے واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11787
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مٹھی کو بند کیا اور ارشاد فرمایا:’’ اس میں اہل جنت کے نام ان کے آباؤ اجداد ان کے قبیلوں کے نام ہیں‘ان میں قیامت کے دن تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی‘پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا‘پھر آپ نے اسے بند کیا اور فرمایا:یہ اہل جہنم کے نام ہیں ان کے آباؤ اجداد کے نام ہیں‘ان کے قبیلوں کے نام ہیں‘قیامت کے دن تک ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی‘سعادت والے(کچھ) لوگوں کو بدنصیب لوگوں کے راستے پر چلایا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے:یہ ان (بدنصیب لوگوں) میں سے ایک ہے حالانکہ وہ ان (دوسروں‘یعنی خوش نصیب لوگوں) میں سے ہوتے ہیں، پھر انہیں سعادت لاحق ہو جاتی ہے اور وہ انہیں بدنصیبی کے راستے سے نکال دیتی ہے‘اسی طرح بد نصیب لوگوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کو سعادت کے راستے پر چلایا جاتا ہے‘یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے:یہ ان (یعنی خوش نصیب لوگوں) میں سے ہے لیکن وہ ان دوسروں (یعنی بدنصیب لوگوں) میں سے ہوتا ہے بد نصیبی اسے لاحق ہوتی ہے اور اُسے سعادت کے راستے سے نکال دیتی ہے‘‘ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان ہو جاتی ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو‘‘ ۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمٰن بن ایوب سکونی ہے‘اس نے اس کے علاوہ بھی روایات نقل کی ہیں‘اس کے بارے میں عقیلی نے کہا ہے:اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے‘امام ذہبی نے اپنی طرف سے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور اس کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ بھی کلام کیا گیا ہے ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter on the foregoing from God, glory be to Him in His worship, and the statement of the people of Paradise and the people of Hell] · Hadith 11788