مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ] · حديث 9335
9335 - وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ. فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَمَا اتُّخِذَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقُوتِلَ عَلَيْهِ أَعْدَاءُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَمَا اسْتُبْطِنَ وَيُحْمَلُ عَلَيْهِ. وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَمَا رُوهِنَ عَلَيْهِ وَقُومِرَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا: ’’گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں ایک گھوڑ ارحمان کے لئے ہوتا ہے ایک گھوڑا انسان کے لیے ہوتا ہے۔ ایک گھوڑا شیطان کے لئے ہوتا ہے جہاں تک رحمان والے گھوڑے کا تعلق ہے تو یہ وہ ہے جسے الله کی راہ میں رکھا گیا ہو اور اس پر سوار ہو کر اللہ کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کی جائے جہاں تک انسان والے گھوڑے کاتعلق ہے ، تو یہ وہ ہے جس کو سواری کے لئے استعال کیا جاتا ہے اور جس پروزن لا دا جا تا ہے جہاں تک شیطان والے گھوڑے کا تعلق ہے ، تو وہ یہ ہے جس پر مقابلہ بازی اور جوا کیا جاتا ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے۔
خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter of what comes in the horse] · Hadith 9335
