مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابُ مَا يَنْقُضُ عَهْدَ أَهْلِ الذِّمَّةِ] · حديث 9803
9803 - عَنْ غُرْفَةَ بْنِ الْحَارِثِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ - أَنَّهُ مَرَّ بِنَصْرَانِيٍّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، يُقَالُ لَهُ: الْمَنْدِقُونَ، فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَذَكَرَ النَّصْرَانِيُّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ، فَقَالَ عَرَفَةُ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ، يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ، وَأَنْ نُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ يُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ، إِلَّا أَنْ يَأْتُونَا فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ، فَقَالَ عَمْرٌو: صَدَقْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت غرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے یمن میں حضرت عکرمہ بن ابوق جہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ مرتدین کے ساتھ جنگ کی تھیئ ان کا گزر اہل مصر کے ایک عیسائی شخص کے پاس سے ہوا جس کا نام مندفون تھا ۔ انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی عیسائی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کیا اور آپ کی شان میں گستاخی کی یہ معاملہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا انہوں نے حضرت غرفہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو انہوں نے کہا : ہم نے انہیں عہد دیا ہے حضرت غرفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ ہم انہیں اس بات کا عہد دیں اور اس بات کا میثاق کریں کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے حوالے سے ہمیں اذیت دیں ہم نے انہیں یہ عہد اس لئے دیا تھا کہ ہم انہیں اپنے عبادت گاہوں کے درمیان چھوڑ دیں گے وہ اپنی عبدات گاہوں میں جو چاہیں پڑھیں اور ہم انہیں کسی ایسی چیز کا پابند نہیں کریں گے جن کی ان میں طاقت ہو نہ ہو اور ہم ان کی خاطر جنگ بھی کریں گے اور ان کے احکام کے حوالے سے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے لیکن جب یہ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کے درمیان اس چیز کے مطابق فیصلہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے ، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کیہ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن سعید کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ ← غُرْفَةَ بْنِ الْحَارِثِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter on what breaks the covenant of the people of responsibility] · Hadith 9803
