مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ] · حديث 9791
9791 - وَعَنْ أَوْفَى بْنِ مَوَلَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْطَعَنِي الْعَمِيمَ، وَشَرَطَ عَلَيَّ ابْنَ السَّبِيلِ أَوَّلَ رَيَّانٍ. وَأَقْطَعَ سَاعِدَةَ - رَجُلًا مِنَّا - بِئْرًا بِالْفَلَاةِ، يُقَالُ لَهَا: الْجَعُوبِيَّةُ، وَهِيَ بِئْرٌ يُخَبَّأُ فِيهَا الْمَالُ، وَلَيْسَتْ بِالْمَاءِ الْعَذْبِ. وَأَقْطَعَ أُنَاسًا مُعَادَةَ الْعُرَى، وَهِيَ دُونَ الْيَمَامَةِ. وَكُنَّا أَتَيْنَاهُ جَمِيعًا، وَكَتَبَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا بِذَلِكَ فِي أَدِيمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
حضرت اوفی بن مولہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے عمیم ( نامی جگہ ) مجھے جاگیر کے طور پر دے دی اور مجھ پر شرط عائد کی کہ مسافر کو پہلی مرتبہ سیراب کرنا ہے ۔ آپ نے ہم میں سے ایک شخص ساعدہ کو بے آب و گیاہ جگہ میں ایک کنواں جاگیر کے طور پر دیا جس کا نام جعوبیہ تھا وہ ایک ایسا کنواں تھا ، جس میں مال چھپا کے رکھا گیا تھا وہ میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا آپ نے کچھن لوگوں کو معادہ العری جاگیر کے طور پر دیا تھا جو یمامہ سے پہلے ہے ہم سب وہاں آئے آپ نے ہم میں سے ہر ایک کے لئے چمڑے میں حکم تحریر کروایا تھا ۔یہ روایت اما م طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
أوفى بن موله
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Door to what is cut off from land and water] · Hadith 9791
