مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابُ لَا يُقْبَلُ مِنْ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ إِلَّا الْإِسْلَامُ أَوْ يُقْتَلُوا] · حديث 9659
9659 - عَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا ". فَبَعَثَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ وَأَمَرَنَا بِذَلِكَ فَخَرَجْنَا نَسِيرُ بِأَرْضِ تِهَامَةَ فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا يَسُوقُ ظَعَائِنَ فَعَرَضْنَا عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ، فَقُلْنَا: أَمُسْلِمٌ أَنْتَ؟ فَقَالَ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ لَا يَعْرِفُهُ فَقَالَ: إِنْ لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ؟ فَقُلْنَا: نَقْتُلُكَ. قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَائِنَ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوهُ. فَخَرَجَ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا فَقَالَ: أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ انْقِطَاعِ الْعَيْشِ. فَقَالَتْ: أُسْلِمُ عَشْرًا وَتِسْعًا تَتْرَى. ثُمَّ قَالَ: أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجَدْتُكُمْ ... بِحَلِيَّةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ فَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يُنَوَّلَ عَاشِقٌ ... تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ الثَّرَى وَالْوَدَائِقِ فَلَا ذَنْبَ لِي لَوْ قُلْتُ إِذْ أَهِلْنَا مَعًا ... أَتَتْنِي بِوُدٍّ قَبْلَ إِحْدَى الْمَضَائِقِ أَتَتْنِي بِوُدٍّ قَبْلَ أَنْ يَشْحَطَ النَّوَى ... وَيَنْأَى الْأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ ثُمَّ أَتَانَا فَقَالَ: شَأْنَكُمْ، فَقَدَّمْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَنَزَلَتِ الْأُخْرَى مِنْ هَوْدَجِهَا فَحَنَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: " «إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا» ". فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ وَإِسْنَادُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ إِسْنَادِهِ. وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي السَّرَايَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
حضرت عصام مزنی رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی کوئی لشکر یا جنگی مہم روانہ کرتے تھے ، تو ان سے یہ فرماتے تھے : جب تم مسجد دیکھو یا موذن کو سنو تو وہاں کسی کو قتل نہ کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم پر بھیجا آپ نے یہی حکم دیا ہم نکلے ہم تہامہ کی سر زمین سے گزر رہے تھے ہمیں ایک شخص ملا جو خواتین ( کی سواریوں ) کو ہانک کر لے جا رہا تھا ہم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ہم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم مسلمان ہو ؟ اس نے دریافت کیا : کیا اسلام ہوتا ہے ؟ ہم نے اسے بتایا تو وہ اس چیز سے واقف نہیں تھا اس نے دریافت کیا : اگر میں ایسا نہیں کرتا تو تم لوگ کیا کرو گے ؟ ٹھیک ہے ، کیونکہ ہم اس تک پہنچ سکتے تھے وہ نکلا اسی دوران ہودج میں ایک عورت موجود تھی اس نے کہا : اے حبیش ! تم زندگی ختم ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لو ، اس عورت نے جواب دیا : میں دسویں اسلام قبول کر لوں اور نو الگ ، الگ ہو جائیں پھر اس شخص نے کہا : کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا تو ہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے تو میرا کوئی گناہ نہیں ہے اگر میں نے یہ کہا کہ جب ہم اکٹھے ہوں تو میرے پاس ایسی محبت لے کر آئے جو کسی قسم کی تنگی سے پہلے ہو وہ میرے پاس ایسے وصل کے ہمراہ آئے جو دوری سے پہلے ہو اور امیر جدا ہونے والے محبوب سے دور ہو جائے ۔ پھر وہ ہمارے پاس آیا اور بولا : تم نے جو کرنا ہے وہ کر لو ، ہم نے اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دی ، پھر دوسری عورت اپنے ہودج سے نکلی اور روتی ہوئی اس پر گری اور مر گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابو داؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم مسجد دیکھو کا کسی موذن کو سنو تو وہاں کسی کو قتل نہ کرنا۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے اور ان کی سند ان دونوں کی سند سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سرایا سے متعلق باب میں آ گے آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter: Only Islam will be accepted from idol worshipers, or they will be killed.] · Hadith 9659
