مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ بَابٌ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ] · حديث 6963
6963 - «وَعَنْ كَرَدْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ ذُودًا لِي مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " أَوْفِ بِنَذْرِكَ لَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي النِّكَاحِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
حضرت کردم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ !میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں فلاں ،فلاں جگہ پر ایک اونٹ قربان کروں گا، نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تم اپنی نذر پوری کر دو، لیکن قطع رحمی کے بارے میں نذرکوئی حیثیت نہیں ہوتی، اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے بارے میں بھی نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے، جو آگے چل کر نکاح سے متعلق باب میں آئے گی،اگر اللہ نے چاہا اور اس کی سند میں ایساراوی ہے ،جس سے میں واقف نہیں ہوں۔
قُلْتُ ← «وَعَنْ كَرَدْمِ بْنِ قَيْسٍ
Hadith 6963
