مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا] · حديث 6914
6914 - وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ «أَنَّ مُعَاذًا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَتْرُكُهُ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " فَإِنَّهُ إِنْ حَلَفَ كَاذِبًا " فَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْمَنْبِجِيُّ قِيلَ فِي تَرْجَمَتِهِ: لَهُ غَرَائِبُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت معاذرضی اللہ عنہ اور ایک شخص کے درمیان اختلاف ہوگیا تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے ایک پرقسم کی ادائیگی کا فیصلہ دیا، تو دوسرے نے کہا ،یا رسول اللہ! آپ اسے حلف اٹھانے کا موقع دے رہے ہیں تو یہ چیز لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اگر اس نے جھوٹا حلف اٹھایا (راوی بیان کرتے ہیں: ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شد یدکلمات ارشاد فرمائے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں: ان صحابی کے حوالے سے ’’صحیح‘‘میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام منجبی ہے اس کے حالات میں بات بیان کی گئی ہے کہ اس سے عجیب وغریب روایات منقول ہیں اس کے بقیہ رجال کے رجال ہیں۔
الْآخَرِ
Hadith 6914
