مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْخِلَافَةِ] ‹ [بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ] · حديث 8931
8931 - وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ نِسَاؤُهُ فَاسْتَتَرْنَ مِنِّي إِلَّا مَيْمُونَةَ، فَقَالَ: " لَا يَبْقَى أَحَدٌ [فِي الْبَيْتِ] شَهِدَ اللَّدَّ إِلَّا لُدَّ إِلَّا أَنَّ يَمِينِي لَمْ تُصِبِ الْعَبَّاسَ ". ثُمَّ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ إِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ بَكَى، قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَقَامَ فَصَلَّى فَوَجَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ فَأَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ اقْتَرَأَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَأَبُو يَعْلَى أَتَمُّ مِنْهُمْ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج موجو دتھیں ان سب نے مجھ سے پردہ کر لیاصرف میمونہ رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھر میں موجود ہر وہ شخص جو مجھے دوائی پلانے کے وقت موجودتھا اسے بھی دوائی پلائے جائے البتہ اس حکم میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ شامل نہیں ہوں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ گزارش کرو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد ہیں کہ جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگےتو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پہلو میں تشریف فرما ہوئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تلاوت کی۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزارنے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام ابویعلی نے ان کے مقابلے میں زیادہ مکمل روایت کے طور پرنقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قراردیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
الْعَبَّاسُ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Succession] › [Chapter of the four caliphs] · Hadith 8931
