مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْخِلَافَةِ] ‹ بَابُ كَرَاهَةِ الْوِلَايَةِ وَلِمَنْ تُسْتَحَبُّ] · حديث 9015
9015 - «وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ إِلَيْهِمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ. قَالَ: " أَكَذَاكَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ، وَأَعْطَانِي إِنَاءً أَتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَانْفَجَرَ عُيُونًا فَقَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ ". فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: فُلَانٌ ظَلَمَنِي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِمُسْلِمٍ " ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ - أَوْ دَاءٌ - ". فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي فَقَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " فَقُلْتُ: كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟! قَالَ: " هُوَ مَا سَمِعْتَ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
حضرت حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری قوم کے لوگ کافر تھے مجھے یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف لشکر روانہ کرنے لگے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: میری قوم اسلام پرعمل پیرا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ایساہی ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں راوی کہتے ہیں : میں رات بھر میں ہونے .تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہا پھر میں نے نماز کے لئے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک برتن دیا تا کہ میں اس سےوضوکرلوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں توان انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو وضو کرنا چاہتا ہووہ وضوکرےمیں نے وضو کیا میں نے نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے میری قوم کا امیرمقررکیا اور مجھے ان کے صدقات وصول کرنے کا نگران مقرر کیا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: فلا ںشخص نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کے لئے امیر ہونے میں بھلائی نہیں ہے پھرایک اورشخص آپ کے پاس آیا اس نے آپ سے صدقہ مانگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ تو سر کا درد ہوتا ہے اور پیٹ میں آگ کا باعث ہوتا ہے (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) بیماری کا باعث ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں تو میں نے صحیفہ (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :)اپنے امیر ہونے اپنے صدقات وصول کرنے کا نگران ہونے کاصحیفہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کی زبانی یہ بات سن لی ہے تو اب میں اسے کیسے قبول کرسکتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا: یہ ویسا ہی ہے جس طرح تم نے سنا ہے۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا فَأُخْبِرْتُ ← «وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Succession] › Chapter on hatred of guardianship and to whom it is desirable] · Hadith 9015
