مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ بَابٌ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ] · حديث 6955
6955 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا قَالَ: " مَا هَذِهِ؟ ". قَالُوا: امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ نَاشِرَةً شَعْرَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَخْتَمِرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي يَحْيَى، وَهُوَ غَيْرُ الَّذِي فِي الْمِيزَانِ، فَإِنَّ هَذَا رَوَى عَنْهُ الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، وَرَوَى هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران مکہ کے قریب ایک عورت کو دیکھا ،جس نے بال بکھرائے ہوئے تھے (یعنی وہ پردے کے بغیرتھی) ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ قریش سے تعلق رکھنے والی عورت ہے اور اس نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ اپنے بال کھلے رکھ کر (یعنی پردے کے بغیر ) حج کے لئے جائے گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ چادر لے۔ یہ روایت امام بزارنے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن ابویحییٰ ہے، کہ اس راوی کے علا وہ ہے، جس کا ذکر’’ میزان ‘‘میں ہوا ہے کیونکہ اس سے فضل بن سہل اعرج نے روایت نقل کی ہے، اور وہ زید بن حباب سے روایت نقل کرتا ہے اس روایت کے بقیہ ر جال صحیح کے رجال ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of oaths and vows] › Chapter: There is no vow in transgression. Rather, the vow is what God sought] · Hadith 6955
