مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَاثِيلِ وَالصُّوَرِ] · حديث 8887
8887 - عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ: " أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخَهَا؟ ". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَابَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، [فَرَجِعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا انْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ.] قَالَ: فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخْتُهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ عَادَ إِلَى صَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ". ثُمَّ قَالَ: " لَا تَكُونَنَّ مُخْتَالًا، وَلَا فَتَّانًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجَرَ خَيْرٍ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمُسَوِّفُونَ بِالْعَمَلِ» ".
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کون مدینہ جائے گا' اور وہاں موجود ہر بت کو توڑ دے گا' اور ہر قبر کو برابر کر دے گا' اور ہر تصویر کو خراب کر دے گا' تو ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں راوی کہتے ہیں لیکن وہ اہل مدینہ سے ڈر گیا اور واپس آ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں جاتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم چلے جاؤ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے وہ واپس آئے ' تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے وہاں موجود ہر بت کو توڑ دیا ہے ہر قبر کو برابر کر دیا ہے' اور ہر تصویر کو خراب کر دیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص ان میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا وہ اس چیز کا کفرے گا' جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہے " ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " تم تکبر کرنے والے آزمائش کا شکار کرنے والے اور تجارت کرنے والے نہ ہونا البتہ بھلائی کی تجارت کرنے والے کامعاملہ مختلف ہے'کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو عمل کاٹالتے رہتے ہیں ( کہ میں عنقریب ایسا کر لوں گا) "۔
رَجُلٌ: ← إلا كَسَرُه، ولا قَبْراً إلا سوَّاهُ، ولا صورَةً إلا لَطَخها؟ ← "أيُّكم ينطلِقُ إلى المدينة فلا يَدعُ بها ← كان رسولُ الله في جَنازَةٍ ← عَلِيٍّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Dressing Book] › [Chapter of what came in statues and pictures] · Hadith 8887
