مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِرْآةِ وَمَا يَقُولُ إِذَا نَظَرَ فِيهَا وَالتَّيَمُّنِ فِي كُلِّ شَيْءٍ] · حديث 8875
8875 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَسَّنَ خُلُقِي وَخَلْقِي، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي ". وَإِذَا اكْتَحَلَ جَعَلَ فِي كُلِّ عَيْنٍ اثْنَيْنِ وَوَاحِدًا بَيْنَهُمَا، وَكَانَ إِذَا لَبِسَ نَعْلَيْهِ بَدَأَ بِالْيَمِينِ، وَإِذَا خَلَعَ خَلَعَ الْيُسْرَى، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ أَدْخَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي كُلِّ شَيْءٍ أَخْذًا وَعَطَاءً». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ حُصَيْنٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شیشہ دیکھتے ' تو یہ پڑھتے تھے: " ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے جس نے میرے اخلاق اور میری ظاہری تخلیق کو اچھا بنایا ہے' اور مجھے زینت عطا کی ہے جبکہ دوسروں میں خامیاں ہیں" ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سرمہ لگاتے تھے ' تو ہر آنکھ میں دو مرتبہ لگاتے تھے اور ان دونوں کے درمیان ایک مرتبہ لگاتے تھے جب آپ جوتا پہنتے تھے ' تو دائیں طرف سے آغاز کرتے تھے جب جوتا اتارتے تھے' تو پہلے بائیں طر ف والا اتارتے تھے جب آپ مسجد میں داخل ہوتے تھے ' تو پہلے دایاں پاؤں اندر داخل کرتے تھے اور آپ ہر کام خواہ دینے کا ہو یا لینے کا ہو دائیں طرف سے کرنے کو پسند کرتے تھے۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے' اور وہ متروک ہے۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا نَظَرَ فِي الْمَرْآةِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Dressing Book] › [Chapter on what comes in the mirror and what he says when he looks at it and trusts in everything] · Hadith 8875
