مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَاتَمِ] · حديث 8743
8743 - وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ [مِنْ نُحَاسٍ] فَقَالَ: " مَا بَالُ هَذَا؟ " قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ. قَالَ: " انْزِعْهُ عَنْكَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَأَبُو سَلَمَةَ الْكَلَاعِيُّ التَّابِعِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ وَالْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے اس کے ہاتھ میں تانبے کی انگوٹھی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کس لیے ہے؟ اس نے عرض کی: یہ واہنہ ( نامی تکلیف کے لئے ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اتار دو۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ ابو سلمہ کلاعی نامی تابعی سے میں واقف نہیں ہوں ' اور ایک راوی احوص بن حکیم ہے' جسے ابن مدینی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے' جبکہ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
مِنَ الْوَاهِنَةِ ← مَا بَالُ هَذَا؟ ← «مَرَّ النَّبِيُّ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ [مِنْ نُحَاسٍ] ← ثَوْبَانَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Dressing Book] › [Chapter of what came in the seal] · Hadith 8743
