مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَاتَمِ] · حديث 8719
8719 - «عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ لَهُ: لِمَ تَخْتِمُ بِالذَّهَبِ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يُقَسِّمُهَا سَبْيٌ وَخُرْثِيٌّ قَالَ: فَقَسَّمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ، فَرَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ، ثُمَّ خَفَضَ، ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ خَفَضَ ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " أَيْ بَرَاءُ ". فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ ثُمَّ قَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي ثُمَّ قَالَ: " خُذِ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ". قَالَ: وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ: كَيْفَ تَأْمُرُونِي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ مَوْلَى الْبَرَاءِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَأَبُو حَاتِمٍ، وَلَكِنْ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْبَرَاءِ، قُلْتُ: قَدْ وَثَّقَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ فَصَرَّحَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
محمد بن مالک بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا' لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی ہے' جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ کے سامنے مال غنیمت موجود تھا' آپ نے اس میں قیدیوں اور گھر کے سازو سامان کو تقسیم کردیا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تقسیم کر دیا یہاں تک کہ یہ انگوٹھی باقی رہ گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا پھر نگاہ کو جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا پھر آپ نے نگاہ کو جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر اسے جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا پھر فرمایا: اے براء میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا یہاں تک کہ آپ کے سامنے آکر بیٹھ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی لی پھر میری کلائی کو پکڑا اور فرمایا: تم یہ لو اور اسے پہن لو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تمہیں پہننے کے لئے دیا ہے راوی بیان کرتے ہیں: حضرت براء یہ کہتے تھے کہ تم مجھے یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں اس چیز کو اتار دوں کہ جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہےکہ تم وہ چیز پہن لو جو اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پہنائی ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔ امام ابو یعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔ محمد بن مالک نامی راوی حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام ہے اسے ابن حبان اور ابو حاتم نے ثقہ قرار دیا ہے' لیکن ابن حبان یہ کہتے ہیں: اس نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے میں یہ کہتا ہوں انہوں نے اس کی توثیق کی گئی ہے اس راوی نے یہ بیان کیا ہے : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دیکھا ' تویہ اس بات کی صراحت ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Dressing Book] › [Chapter of what came in the seal] · Hadith 8719
