مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ] · حديث 8659
8659 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْرَجَ فِي يَدِهِ قِطْعَةً مِنْ ذَهَبٍ وَقِطْعَةً مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ: " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَحَلَالٌ لِإِنَاثِهِمْ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ: صَدُوقٌ يَهِمُ، وَفِي الْآخَرِ إِسْلَامٌ الطَّوِيلُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں سونے کاایک ٹکڑا اور ریشم کاایک ٹکڑانکالا اور ارشاد فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی خواتین کے لئے حلال ہیں۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ جن میں سے ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے' اور وہ ضعیف ہے اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے یہ صدوق ہے ' لیکن وہم کا شکار ہو جاتا ہے' اور دوسری روایت میں ایک راوی اسلام طویل ہے' اور وہ متروک ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Dressing Book] › [Chapter of what came in silk and gold] · Hadith 8659
