مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطِّبِّ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى لِلْعَيْنِ وَالْمَرَضِ وَغَيْرِ ذَلِكَ] · حديث 8455
8455 - وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدِهِ: «فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ جَالِسٍ فِي الْجَبَّانَةِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: " يَا لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ ". ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ وَيَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَسَأَلْتُ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ: مَا كَانَ يَقُولُ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ» ". وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :" میری والدہ مجھے لے کر ایک صاحب کے پاس گئیں، جو ایک قبرستان کے پاس تشریف فرما تھے ، میری والدہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : میں متوجہ ہوں ، پھر میری والدہ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے قریب کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے دم کرنا شروع کیا اور کچھ کلام پڑھنا شروع کیا ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا تھا ؟ بعد میں ، میں نے اپنی والدہ سے معلقم کیا کہ وہ کیا کلمات تھے ، تو انہوں نے بتایا ، آپ ﷺ نے یہ پڑھا تھا " اے لوگوں کے پروردگار ! تو تکلیف کو رخصت کر دے ، تو شفاء عطا کر دے ، تو شفاء عطا کرنے والا ہے ، شفاء عطا کرنے والا صرف ، تو ہی ہے"۔امام احمد کے رجال اور اس طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Medical book] › [Chapter on what came in ruqyah for an eye, disease, and other things] · Hadith 8455
