مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطِّبِّ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ] · حديث 8431
8431 - وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: الْغُسْلُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عُلَمَاءَنَا يَصْنَعُونَ، أَنْ يُؤْتَى الرَّجُلُ الَّذِي يُعْيِنُ صَاحِبَهُ بِالْقَدَحِ فِيهِ الْمَاءُ، فَيُمْسِكُ لَهُ مَرْفُوعًا مِنَ الْأَرْضِ، فَيَدْخُلُ الَّذِي يُعَيِّنُ صَاحِبَهُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ، فَيَصُبُّ عَلَى وَجْهِهِ الْمَاءَ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ الْيُسْرَى فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى صَبَّةً وَاحِدَةً إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةٍ فِي الْقَدَحِ، وَهُوَ فِي يَدِهِ إِلَى عُنُقِهِ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ الْيُمْنَى مِنْ عِنْدِ أُصُولِ الْأَصَابِعِ، وَالْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيُصِبُّ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَفْعَلُ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَغْمِسُ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ، فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ، فَيَصُبُّهُ عَلَى رَأْسِ الْمَعْيُونِ مِنْ وَرَائِهِ، ثُمَّ يَكْفَأُ الْقَدَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ إِلَى الزُّهْرِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے علماء کو جس طرح کرتے ہوئے پایا ہے اس میں غسل کا طریقہ یہ ہے : اس شخص کو لایا جائے گا ، جس نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے اس کے پاس ایک پیالہ لایا جائے گا جس میں پانی موجود ہو گا ، اور اس کے لئے اسے زمین سے ذرا بلند کر کے پکڑ کر رکھا جائے گا ، جس شخص نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے وہ اپنا دایاں ہاتھ پنی میں داخل کرےگا اور پھر اپنے چہرے پر پانی ڈال دے گا ایسا ایک مرتبہ کرے گا ، پھر بایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا اور اپنے دائیں بازو پر ایک مرتبہ پنی ڈالے گا ، جا واپس پیالے میں جائے گا ، پر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کر کے اس ذریعے بایاں ہاتھ ایک مرتہ دھوئے گا یہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے جائیں گے ، پھر وہ دونوں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا ، اور پھر ایک ہی مرتبہ پانی ڈال کر اپنے سینے کو دھوئے گا جس کا بقایا پانی پیالے میں جائے ، پھر وہ اپنا بایا ں ہاتھ اس پنی میں داخل کرے گا چلو میں پانی لے گا اور اسے اپنے دائیں پتھیلی پر ڈالے گا وہ ایک مرتبہ ڈالے گا ، یوں کہ بقایا پانی پیالے میں چلا جائے گا ، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرے گا اور اس کے ذریعے دائیں ہاتھ پر ایک مرتبہ پانی ڈالے گا جو بقایا پانی پیالے میں چلا جائے گا اور پھر وہ اپنا ہاتھ گردن تک لے کے جائے گا (شاید یہاں مراد ہے کہ کہنی تک لے جائے گا ) پھر وہ بائیں کہنی کے ساتھ بھی اسی طرح کرے گا ، پھر وہ اپنے دائیں پاؤں کے اوپر ی حصے کے ساتھ اس طرح کرے گا ، جو اس کی انگلیوں کی جڑوں سے شروع ہو گا پھر بائیں پاؤں کے استھ اسی طرح کرے گا ، پھر بایاں ہاتھ برتن میں داخل کرکے پانی اپنے دائیں گھٹنے کی پشت پر ڈالے گا ، پھر بائیں گھٹنے کی ساتھ ایسا ہی کرے گا پھر وہ اپنے تہبند کا اندرونی حصہ دائیں طرف سے پنی میں ڈبوئے گا ، پھر وہ شخص اٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالہ موجود تھا ،وہ پیالے کو لے کے جائے گا پھر وہ اپنے دائیں گھٹنے پر پانی بہائے گا ، پھر وہ شخص اٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالا موجود تھا اور پھر وہ اس شخص پر پانی ڈالے گا جس کو نظر لگی تھی وہ اس کے پیچھے کی طرف سے ڈالے گا اور پھر وہ ا کے پیچھے ہی پیالے کو زمین پر اوندھا کر کے رکھ دے گا ۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ زہری تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Medical book] › [Chapter of what came into the eye] · Hadith 8431
