مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطِّبِّ] ‹ [بَابُ التَّفَاؤُلِ بِالِاسْمِ الْحَسَنِ] · حديث 8419
8419 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: هَاكَهَا خَضْرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا لَبَّيْكَ، نَحْنُ أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ، أُخْرُجُوا بِنَا إِلَى خُضْرَةٍ ". فَخَرَجُوا إِلَيْهَا فَمَا سُلَّ فِيهَا سَيْفٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ. وَكَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : یہ سبزہ لو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا: میں موجود ہوں ، ہم تمہاری زبان سے تمہاری فال لیتے ہیں ، تم ہمیںلے کر سبزہ کی طرف جاؤ ، تو وہ لوگ اس کی طرف نکلے اور اس بارے میں کوئی تلوار نہیں سونتنی پڑی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، کثیر بن عبداللہ نامی راوی انتہائی ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
عمرو بن عوف المزنى
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Medical book] › [Chapter of optimism by the good name] · Hadith 8419
