مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ] ‹ بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ] · حديث 8075
8075 - عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ} [البقرة: 219] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ النَّاسُ: مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا إِنَّمَا قَالَ: (فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ) وَكَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ مِنَ الْأَيَّامِ صَلَّى رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ أَمَّ أَصْحَابَهُ فِي الْمَغْرِبِ خَلَّطَ فِي قِرَاءَتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا آيَةً أَغْلَظَ مِنْهَا: (يَا أَيُّهَا الْذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ) وَكَانَ النَّاسُ يَشْرَبُونَ حَتَّى يَأْتِيَ أَحَدُهُمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ مُفِيقٌ. ثُمَّ نَزَلَتْ آيَةٌ أَغْلَظُ مِنْهَا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة: 90] قَالُوا: انْتَهَيْنَا رَبَّنَا. فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَاسٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ، كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ، وَقَدْ جَعَلَهُ اللَّهُ رِجْسًا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [المائدة: 93] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَوْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ لَتَرَكُوهَا كَمَا تَرَكْتُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ. وَأَبُو نَجِيحٍ: ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ. وَسَرِيجٌ ثِقَةٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: شراب کی حرمت کا حکم تین مرتبہ میں نازل ہو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ شرب پیا کرتے تھے اور جوا کھیلتے تھے ۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل کی: "لوگ تم سے شرب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تم فرما دو! ان دونوں میں بڑا گناہ ہے، اور لوگوں کے لئے فائدہ بھی ہے۔۔۔۔۔" یہ آیت کے آخر تک ہے۔ تو لوگوں نے یہ کہا: اس میں ہم پر حرام قرار نہیں دیا گیا صرف یہ کہا ہے "ان دونوں میں بڑا گناہ ہے"۔ پھر لوگ شراب پیتے رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایک دن مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھائی قرات کرتے ہوئے وہ غلطی کر گئے اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ایک آیت نازل کی جس میں زیادہ سخت حکم تھا (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) "اے ایمان والو! تم نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو جب تک تم یہ جان نہیں لیتے کہ تم کیا کہہ رہے ہو "۔ اس کے بعد بھی لوگ شراب پیتے رہے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لئے اس وقت آتا جب اس کا نشہ ختم ہو چکا ہوتا پھر وہ آیت نازل ہوئی جو اس سے زیادہ سخت حکم والی آیت تھی (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) "اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوا اور بت اور پانسے گندگی ہیں اور شیطان کے عمل کا حصہ ہیں، تو تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ"۔ تو لوگوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! ہم باز آ گئے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کچھ لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو چکے ہیں یا اپنے بچھونوں پر مرے ہیں وہ لوگ شراب پیا کرتے تھے اور جوا کھیلا کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے نا پاک اور شیطان کے عمل کا حصہ قرار دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : "جو لوگ ایمان لائے، اور انہوں نے نیک اعمال کیے، تو ان پر کئی گناہ نہیں ہو گا اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے پہلے کھائی تھی جبکہ انہوں نے پرہیز گاری اختیار کی ہو، وہ ایمان لائے ہوں اور نیک اعمال کئے ہوں"۔ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اگر یہ ان پر حرام قرار دئیے گئے ہوتے ، تو وہ لوگ بھی اسے ترک کر دیتے جس طرح تم نے ترک کیا ہے"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام ابو وہب پر کسی نے جرح نہیں کی ہے، اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ، ابو نجیح نامی راوی کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے سریح نامی راوی ثقہ ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of syrups] › Chapter against alcohol] · Hadith 8075
