مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ تَلْقِينِ الْمَيِّتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ] · حديث 3920
3920 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا أَغْبَرَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّهُ أَنَّ مَا بِكَ أَمَارَةُ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا رَجُلٌ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ إِلَّا وَجَدَ رُوحَهُ لَهَا رَوْحَةٌ حَتَّى تَخْرُجَ مَنْ جَسَدِهِ، وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا! فَذَاكَ الَّذِي دَخَلَنِي!! قَالَ عُمَرُ: فَإِنِّي أَعْلَمُهَا قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَمَا هِيَ قَالَ: الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا لِعَمِّهِ قَالَ: صَدَقْتَ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا: کیاوجہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں مسلسل تمہیں بکھرے ہوئے بالوں والا اور غبار آلود دیکھ رہا ہوں شاید تمہیں اپنے چچازادکی امارت (یعنی حکومت ) کے حوالے سے کوئی الجھن ہے‘ تو انہوں نے کہا اس بات سے اللہ کی پناہ ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشادفر ماتے ہوئے سناہے: ’’ میں ایک ایسے کلمہ کے بارے میں جانتا ہوں کہ جسے کوئی شخص موت کے قریب پڑھ لے تو اس کی روح کو اس کی راحت محسوس ہو گی یہاں تک کہ وہ روح اس کے جسم سے نکل جائے اور وہ کلمہ قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گا‘‘۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کلمے کے بارے میں دریافت بھی نہیں کیا ‘ اور آپ نے مجھے اس کے بارے میں بتایا بھی نہیں تو اس چیز نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس کلمے کے بارے میں جانتا ہوں تو حضرت طلحہ نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے وہ کلمہ کون سا ہے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہ کلمہ ہے ‘ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو پڑھنے کے لئے کہاتھا ‘ تو حضرت طلحہ نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔ یہ روایت امام ابو یعلی ٰنے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
عُمَرَ، ← جَابِرٍ
Hadith 3920
