مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ] · حديث 3865
3865 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فَنَاءُ أُمَّتِي فِي الطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " قُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا الطَّعْنَ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: " وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ النَّصِيبِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَهُ مَنَاكِيرُ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کر تے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا ہے: ’’ میری امت طعن ( یعنی جنگ میں زخمی ہونے ) اور طاعون کے ذریعے فنا ہوگی‘‘ ہم نے عرض کی : طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمنوں جنات کا وار ہے‘ اور ( طعن اور طاعون دونوں میں سے) ہرایک صورت میں شہادت نصیب ہوگی‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیراورمعجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عصمہ نصیبی ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں: اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ابن حبان نے اسے’’ ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter in the Plague and With Which You Will Obtain the Testimony] · Hadith 3865
