مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي الْحُمَّى] · حديث 3820
3820 - عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ - مَا جَزَاءُ الْحُمَّى؟ قَالَ: " تُجْرَى الْحَسَنَاتُ عَلَى صَاحِبِهَا مَا اخْتَلَجَ عَلَيْهِ قَدَمٌ أَوْ ضَرَبَ عَلَيْهِ عِرْقٌ " قَالَ أُبَيٌّ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكُ حُمَّى لَا تَمْنَعُنِي خُرُوجًا فِي سَبِيلِكَ وَلَا خُرُوجًا إِلَى بَيْتِكَ وَلَا مَسْجِدِ نَبِيِّكَ، قَالَ: فَلَمْ يُمْسِ إِلَيَّ قَطُّ إِلَّا وَبِهِ حُمَّى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا مَجْهُولَانِ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ، قُلْتُ: ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَبْلَ هَذَا بِبَابَيْنِ.
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! بخار کی جزا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: یہ اپنے متعلقہ فردکی نیکیوں کو جاری رکھتا ہے‘ جب تک اس کا قدم لڑ کھڑا تا ہے‘ یا جب تک اس کی رگ اس پر جوش مارتی ہے حضرت اُبی نے عرض کی : اے اللہ! میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں (جہاد کے لئے ) نکلنے یا تیرے گھر کی طرف نکلنے یا تیری مسجد کی طرف جانے سے نہ رو کے۔راوی بیان کرتے ہیں: تو شام ہونے سے پہلے انہیں بخار ہو گیا تھا۔یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر اورمعجم اوسط میں محمد بن معاذ بن اُبی بن کعب کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔ یہ دونوں راوی مجہول ہیں جیسا کہ یحییٰ بن معین نے یہ بات بیان کی ہے۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب’’الثقات‘‘ میں کیا ہے ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں‘ اس سے دو باب پہلے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث گزرچکی ہے (جس میں حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا تذکرہ ہے )۔
أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Door in fever] · Hadith 3820
