مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ ثَالِثٌ مِنْهُ] · حديث 3702
3702 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ: وَالنَّجْمِ بِمَكَّةَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لِيَرْفَعُ إِلَى جَبِينِهِ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ فَسَجَدَ عَلَيْهِ، وَحَتَّى يَسْجُدَ [الرَّجُلُ] عَلَى الرَّجُلِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں سورت نجم کی تلاوت کی تو آپ نے سجدہ کیا آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ کیا یہاں تک کہ ایک شخص نے زمین سے کوئی چیز اٹھا کراپنی پیشانی تک بلند کی اور اس پر سجدہ کرلیا اور ایک شخص نے دوسرے شخص پر سجدہ کیا۔ (علامہ ہیثی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’صحیح‘ ‘ میں ایک حدیث منقول ہے جواس سیاق کےبغیر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ’’ثقہ ‘‘ قرارد یا ہے جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter three of it] · Hadith 3702
