مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 3653
3653 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَتَمَةَ ثُمَّ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ سَبْعَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي الْأَرْبَعِ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَتَشَهَّدُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ تَشَهُّدَهُ فِي التَّسْلِيمِ وَيُوتِرُ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَيَرْقُدُ فَإِذَا انْتَبَهَ مِنْ نَوْمِهِ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنَامَنِي فِي عَافِيَةٍ وَأَيْقَظَنِي فِي عَافِيَةٍ " ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَتَفَكَّرُ ثُمَّ يَقُولُ: " {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [آل عمران: 191] " فَيَقْرَأُ حَتَّى يَبْلُغَ: {إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ} [آل عمران: 194] ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ يُكْثِرُ فِيهِمَا الدُّعَاءَ حَتَّى إِنِّي لَأَرْقُدُ وَأَسْتَيْقِظُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَضْطَجِعُ فَيُغْفِي، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا تَكَلَّمَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ هُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، وَهُوَ فِيهِمَا أَشَدُّ تَضَرُّعًا وَاسْتِغْفَارًا حَتَّى أَقُولَ: هَلْ هُوَ مُنْصَرِفٌ؟ وَيَكُونُ ذَلِكَ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُغْفِي قَلِيلًا فَأَقُولُ: هَذَا غَفِيَ أَمْ لَا؟ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَدْعُو بِالسِّوَاكِ فَيَسْتَنُّ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاتَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً». قُلْتُ: لِعَائِشَةَ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے‘ پھر آپ مسجد میں چھ رکعات اداکرتے تھے جو گھر واپس آنے سے پہلے ادا کرتے تھے‘ آپ ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے اور تین وتر ادا کر تے تھے‘ وتر کی پہلی دو رکعات کے بعد آپ تشہد میں بیٹھتے تھے‘ پھر جب سلام پھیر نا ہوتا تھا‘ تب بھی آپ تشہد میں بیٹھتے تھے‘ آپ وتر میں معوذات کی تلاوت کرتے تھے‘ جب آپ گھر تشریف لاتے تھے‘ تو دو رکعات ادا کر تے تھے پھر سو جاتے تھے پھر جب بیدار ہوتے تھے‘ تو یہ پڑھتے تھے: ’’ ہرطرح کی حمد‘ اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے‘ جس نے مجھے عافیت میں نیند عطا کی اور عافیت میں بیدار کیا‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپناسر آسمان کی طرف اٹھا کرغور وفکر کر تے تھے پھر یہ پڑھتے تھے: ”اے ہمارے پروردگارا! تو نے اسے فضول میں پیدا نہیں کیا ہے‘ تو ہر عیب سے پاک ہے ‘تو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچالے‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات تلاوت کرتے تھے یہاں تک کہ یہ پڑھتے تھے:’’ بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کر تا ہے‘‘ ۔ پھر آپ وضوکر تے تھے ‘ پھر کھڑے ہوکر دو رکعات ادا کر تے تھے‘ جن میں آپ طویل قرآت رکوع اور سجودکر تے تھے‘ آپ ان رکعات میں بکثرت دعا کر تے تھے‘ یہاں تک کہ میں سو جاتی تھی، پھر بیدار ہو جاتی تھی‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازختم کر کے لیٹ جاتے تھے‘ اورسوجاتے تھے‘ پھر آپ اٹھتے تھے‘ پھر آپ اسی طرح دعا پڑھا کرتے تھے‘ جس طرح پہلی دفعہ میں پڑھتے تھے‘ پھر آپ کھڑے ہوکر دو رکعات ادا کر تے تھے ‘ جو پہلی والی دو رکعات سے زیادہ طویل ہوتی تھیں اور آپ ان میں زیادہ گر یہ وزاری اورزیادہ استغفار کیا کرتے تھے‘ یہاں تک کہ میں یہ سوچتی کہ کیا آپ اس نماز کوختم کر یں گے ؟ ایسارات کے آخر تک ہوتار ہتا تھا‘ پھر آپ نمازختم کرتے تھے‘ اور تھوڑی دیر کے لئے سوجاتے تھے ‘تو میں یہ سمجھتی کہ آپ سوئےبھی ہیں یا نہیں سوئے؟ یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہو جا تا تھا‘ آپ پھراسی کی مانندکلمات پڑھتے تھے‘ جو پہلی مرتبہ میں پڑھے تھے ‘ پھر آپ بیٹھ کے مسواک منگواتے تھے ‘ مسواک کرتے تھے‘ وضوکر تے تھے‘ پھر دومختصر رکعات ادا کرتے تھے (جوفجرکی دوسنتیں ہوتی تھیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو آپ کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھیں ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’صحیح‘‘ میں احادیث منقول ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
عَائِشَةَ
Hadith 3653
