مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الِاقْتِصَارِ فِي الْعَمَلِ وَالدَّوَامِ عَلَيْهِ] · حديث 3560
3560 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتْ مَوْلَاةٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَالشِّرَّةُ إِلَى فَتْرَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک کنیز تھی جو دن کے وقت روزہ رکھا کرتی تھی اور رات کے وقت نوافل پڑھا کرتی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کی گئی : وہ دن کے وقت روزہ رکھتی ہے اور رات کونفل پڑھتی رہتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ہر عمل میں ایک اہتمام ہوتا ہے (یعنی آدمی اس کے لیے چاق و چوبند ہوتا ہے) اور ہر اہتمام میں فرق (یعنی کمزوری یا کا بلی کا پہلو ) آجاتا ہے تو جس شخص کا فرق میری سنت کی طرف ہوگا وہ ہدایت حاصل کرلے گا اور جس شخص کا فرق اس کے علاوہ ہوگا وہ گمراہ ہوجائے گا۔یہ روایت امام بزارنے نقل کی ہے اور اس کے رجال مسیح کے رجال ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter on being restricted in work and always upon it] · Hadith 3560
